اهنگ زیبای نگارا سینه ی من خانه توست به صدای فرحنلز
نگینه امانقلوه دل من خانه تو
نہ کلیم کا تصور نہ خیال طور سینہ
حسیناؤ نہ اتراؤ ذرا خوف خدا کھاؤ
یہ سنا ہے کہ بہت دور اندھیری ہوگی
بزم سخن
ینگ ستور ہے نگی میگ لمنا لے رہبر فرزانہ ینگ سوی کھا نہ کوک رناون لہ فرمان حکیمانہ
ت و نگاہ نازمینش بندا ت وئی فارسی کلام
میں نے تیری سانسوں کا قصہ سنا دیا
جانا ٹھہرا ہے تو آداب و سلیقے سے نکل سانس کی گٹھڑی اٹھا عمر کے میلے سے نکل
آهنگ افغانی رقص افغانی قطغنی
میں گناہ گار سہی پر خدا سے رابطے میں ہ وں ہر دشوار راستے پر وہ ایک خضر بھیج دیتا ہے
ا س ا نتظار میں مت رہیں کہ کوئی د وسرا آپ کو روشن کرے گا خود کو خود روشن کیجیے
سنا ہے عشق کرنے جا رہے ہو
